مظفر نگر7/مارچ (ایس او نیوز/پریس ریلیز) یہاں مدرسہ جامعہ فیض ناصر میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے قاری محمد مجاہد نے کہا کہ قرآن کریم خداتعالی کی ذات سے نکلاہوا کلام ہے جو سراسر نور اور ہدایت ہے اس کی بڑی فضیلتیں ہیں یہ ایساکلام ہے کہ پڑھنے والے کوتو یہ نفع پہونچا تا ہی ہے مگر اس کے معاون بھی اس کے نفع سے محروم نہیں رہتے، قاری صاحب نے فرمایا کہ جس بچے نے قرآن کریم پڑھا اس کو حفظ کیا اس کے والدین کا قیامت میں ایسا اعزاز ہوگا کہ لوگ دیکھ کر رشک کریں گے اور کہیں گے کہ یہ کوئی نبی ہیں ،یا کوئی شہید ہے مگر ایسا کچھ نہیں ہوگا۔
جامعہ فیض ناصر میں اپنی حاضری کے مو قع پر جا معہ کے طلبا ء وطالبات کی طرف سے قرآن کریم کی آیات سماعت کرنے کے بعد نہایت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جا معہ فیض ناصر کے مہتمم قا ری شا ہد حسینی نے مظفر نگر شہر کے ایک ایسے علا قہ میں علم قرآن کا چراغ روشن کیا ہے جہاں پر مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے آئے ہوئے لوگوں کی آبادی ہے قرآن کریم کی معیاری تعلیم دیکھ کر جو میں نے طلباء وطالبات کا قرآن کریم کو الفاظ کی ادا ئیگی کے سا تھ سنا، دل باغ باغ ہوگیاقاری شا ہد نے ایسے بنجر علاقہ میں قرآن کریم کی معیاری تعلیم کا جو پودا لگایا ہے اور جو اس سے فیض جاری ہو رہا ہے وہ قابل تعریف ہے۔
اس مو قع پر طلباء وطالبات نے تلاوت قرآن،نعت نبیؐ،اور تقاریر پیش کیں اس مو قع پر فقیہ ملت حضرت مو لانا مفتی محمد ناصر نو ر اللہ مرقدہ کو یاد کیا گیا ان کے لئے ایصال ثواب کیا گیا واضح ہو کہ حضرت مفتی صاحب ۲۰۰۹ میں ایک سڑک حا دثہ میں شہید ہو گئے تھے ان ہی کی نسبت پر جامعہ فیض ناصر کا قیام اپنے وقت کے ولی کامل حضرت مفتی شاہ افتخارالحسن صا حب کاندھلوی کے مشورے سے عمل میں آیا جو ان کے توجہات کے طفیل تعلیمی و تعمیری ترقیات پر گامزن ہے اپنے قیام کے اول دن سے حضرت کاندھلوی کی سر پرستی حاصل ہے جامعہ میں نورانی قاعدہ کو ہردوئی کے طرز پر پڑھایا جاتا ہے اور درجہ حفظ کی معیاری تعلیم کانظم ہے اسی کے ساتھ ساتھ حکومت سے منظور شدہ پانچویں درجہ تک اردو،ہندی،انگلش،کی تعلیم کانظم بھی ہے جس میں علاقہ وقرب و جوار سے طلباء داخل ہو کر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔